حدیث نمبر: 5464
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ مِنْ جَلَالِ اللَّهِ مِنْ تَسْبِيحِهِ وَتَحْمِيدِهِ وَتَكْبِيرِهِ وَتَهْلِيلِهِ يَتَعَاطَفْنَ حَوْلَ الْعَرْشِ لَهُنَّ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ يُذَكِّرُونَ بِصَاحِبِهِنَّ أَلَا يُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ لَا يَزَالَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ شَيْءٌ يُذَكِّرُ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ تسبیح (سُبْحَانَ اللّٰہ)، تحمید (اَلْحَمْدُ لِلّٰہ)، تکبیر (اَللّٰہُ اَکْبَر) اور تہلیل (لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ) کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے جلال کا ذکر کرتے ہیں، تو یہ (اذکار) عرش کے اردا گرد عاجزی کرتے ہیں، شہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ کی طرح ان کی آواز ہوتی ہے اور یہ اپنے (ذکر کرنے والے) صاحب کا تذکرہ کرتے ہیں۔ تو اب کیا تم لوگ نہیں چاہتے کہ تمہارا کوئی ایسا عمل ہو جو (عرش کے پاس) تمھاری یاد دلاتا رہے۔

وضاحت:
فوائد: … اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب آدمی اللہ تعالیٰ کی تسبیحات، تکبیرات، تہلیلات اور تحمیدات بیان کرتا ہے تو اس کا یہ عمل مخصوص وجود اختیار کرکے عرش کے اردگرد گھومنا شروع کردیتا ہے اور ذکر کرنے والے کا تذکرہ کرتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5464
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الحاكم: 1/500، وابن ابي شيبة: 10/ 289 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18362 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18552»