الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بابُ مَا جَاءَ فِي أَنْوَاعِ شَتَّى مِنَ التَّسْبِيحِ باب: تسبیح کی مختلف انواع کا بیان
عَنْهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا خَرَجَ بَعْدَ مَا صَلَّى فَجَاءَهَا فَقَالَتْ مَا زِلْتُ بَعْدَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَائِبَةً قَالَ فَقَالَ لَهَا لَقَدْ قُلْتُ بَعْدَكِ كَلِمَاتٍ لَوْ وُزِنَّ لَرَجَحْنَ بِمَا قُلْتِ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ اللَّهُ سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَاءَ نَفْسِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ۔ سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا سے ہی مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ فجر ادا کرنے کے بعد کسی کام کے لیے تشریف لے گئے اور پھر ان کے پاس واپس آئے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کے بعد مسلسل ذکر کرتی رہیہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہارے پاس سے جانے کے بعد ایسے کلمات کہے کہ اگر ان کا تیرے ذکر کے ساتھ وزن کیا جائے تو وہ بھاری ہو جائیں گے، وہ کلمات یہ ہیں: سُبْحَانَ اللّٰہِ عَدَدَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ رِضَائَ نَفْسِہِ، سُبْحَانَ اللّٰہِ زِنَۃَ عَرْشِہِ، سُبْحَانَ اللّٰہِ مِدَادَ کَلِمَاتِہِ۔ (اللہ تعالیٰ پاک ہے اپنی مخلوق کی تعداد کے برابر، اللہ تعالیٰ پاک ہے اپنے نفس کی رضامندی کے برابر، اللہ پاک ہے اپنے عرش کے وزن کے برابر، اللہ پاک ہے اپنے کلمات کی سیاہی کے برابر)۔