حدیث نمبر: 5454
عَنْ أَيُّوبَ بْنِ سَلْمَانَ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ صَنْعَاءَ قَالَ كُنَّا بِمَكَّةَ فَجَلَسْنَا إِلَى عَطَاءِ الْخُرَاسَانِيِّ إِلَى جَنْبِ جِدَارِ الْمَسْجِدِ فَلَمْ نَسْأَلْهُ وَلَمْ يُحَدِّثْنَا قَالَ ثُمَّ جَلَسْنَا إِلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مِثْلُ مَجْلِسِكُمْ هَذَا فَلَمْ نَسْأَلْهُ وَلَمْ يُحَدِّثْنَا قَالَ فَقَالَ مَا لَكُمْ لَا تَتَكَلَّمُونَ وَلَا تَذْكُرُونَ اللَّهَ قُولُوا اللَّهُ أَكْبَرُ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ بِوَاحِدَةٍ عَشْرًا وَبِعَشْرَةٍ مِائَةً مَنْ زَادَ زَادَ اللَّهُ وَمَنْ سَكَتَ غَفَرَ لَهُ الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ صنعاء کے ایک آدمی ایوب بن سلمان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم مکہ مکرمہ میں عطاء خراسانی کے پاس مسجد کی دیوار کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، نہ ہم نے ان سے سوال کیا اور نہ انھوں نے ہمیں کچھ بیان کیا، پھر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس اس طرح بیٹھ گئے، جیسے تمہارے پاس بیٹھے ہیں، ان سے بھی نہ ہم نے کوئی سوال کیا اور نہ انھوں نے ہمیں کچھ بیان کیا، بالآخر انھوں نے کہا: تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، نہ تم بات کرتے ہو، نہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہو، یہ ذکر کرو: اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ، اللہ تعالیٰ ایک کلمے کے بدلے دس لکھے گا اور دس کے بدلے سو لکھے گا، جس نے زیادہ ذکر کیا، اللہ تعالیٰ اس کو زیادہ ثواب دے گا اور جو خاموش ہو گیا، اللہ تعالیٰ اس کو بخش دے گا، … ۔

وضاحت:
فوائد: … آخری جملہ وضاحت طلب ہے، جو خاموش ہو گیا، اللہ تعالیٰ اس کو بخش دے گا اس مقام پر ان الفاظ کا معنی و مفہوم سمجھ نہیں آ رہا، ممکن ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ خاموشی کی فضیلت بیان کر رہے ہوں، جامع ترمذی کی مرفوع روایت کے الفاظ یہ ہیں: وَمَنِ اسْتَغْفَرَ غَفَرَ اللّٰہُ لَہ (جس نے بخشش طلب کی، اللہ تعالیٰ اس کو بخش دے گا)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5454
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه مختصرا ابوداود: 3598، وابن ماجه: 2320، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5544 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5544»