الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
باب فضل سُبْحَانَ الله والحمد لله..الخ ، إِنَّهَا الْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ باب: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ … کی فضیلت کا اور ان کے باقیات صالحات ہونے کا بیان
عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَخْذَ شَيْءٍ مِنَ الْقُرْآنِ فَعَلِّمْنِي مَا يُجْزِئنِي قَالَ قُلْ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَمَا لِي قَالَ قُلْ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَعَافِنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي ثُمَّ أَدْبَرَ وَهُوَ مُمْسِكُ كَفَّيْهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَّا هَذَا فَقَدْ مَلَأَ يَدَيْهِ مِنَ الْخَيْرِ۔ سیدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرنے کی طاقت نہیں رکھتا، اس لیے آپ مجھے ایسے کلمات سکھلا دیں، جو اس سے مجھے کفایت کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کلمات کہا کرو: سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔)) اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کلمات تو سارے اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، میرے لیے کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دعا کر لیا کر: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی وَعَافِنِی وَاہْدِنِی وَارْزُقْنِی (اے اللہ مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے عافیت دے، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا کر)۔ پھر وہ چلا گیا اور اس نے دونوں ہتھیلیوں کو بند کیا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو خیر و بھلائی سے بھر لیا ہے۔