الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
باب فضل سُبْحَانَ الله والحمد لله..الخ ، إِنَّهَا الْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ باب: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ … کی فضیلت کا اور ان کے باقیات صالحات ہونے کا بیان
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَخْبَرَنَا عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ الْكَلِمَاتِ فَقَالَ الرَّجُلُ أَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَيْهَا تَصْعَدُ حَتَّى فُتِحَتْ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا تَرَكْتُهَا مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ عَوْنٌ مَا تَرَكْتُهَا مُنْذُ سَمِعْتُهَا مِنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی نے یہ ذکر کیا: اَللّٰہُ أَکْبَرُ کَبِیرًا وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیرًا وَسُبْحَانَ اللّٰہِ بُکْرَۃً وَأَصِیلًا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کلمات کس نے کہے؟ اس آدمی نے کہا: جی میں نے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں ان کلمات کی طرف دیکھ رہا تھا، یہ چڑھے جا رہے تھے، یہاں تک کہ اس کے آسمان کے لیے دروازے کھول دیئے گئے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ حدیث سنی، اس وقت سے میں نے یہ کلمات ترک نہیں کیے۔ عون راوی نے کہا: جب سے میں نے یہ حدیث سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنی، میں نے بھی ان کلمات کی ادائیگی کو ترک نہیں کیا۔