الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَابُ الأصْلِ فِي الاجْتِمَاعِ عَلَى الدُّكْرِ بقول لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ باب: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کے ذکر پر اجتماع کرنے کی دلیل کا بیان
حدیث نمبر: 5436
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ ظَنَنْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَلَّا يَسْأَلَنِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ أَحَدٌ أَوَّلُ مِنْكَ لِمَا رَأَيْتُ مِنْ حِرْصِكَ عَلَى الْحَدِيثِ أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ خَالِصَةً مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: روزِ قیامت کون لوگ آپ کی سفارش کے زیادہ مستحق ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ہریرہ! میرا خیال تھا کہ کوئی آدمی تجھ سے پہلے مجھ سے اس حدیث کے بارے میں سوال نہیں کرے گا، کیونکہ میں نے تیرے اندر حدیث کی حرص پائی ہے، قیامت کے دن میری سفارش کا سب سے زیادہ مستحق وہ شخص ہو گا، جو اپنی طرف سے اور خلوص کے ساتھ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہے گا۔