حدیث نمبر: 5434
عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي شَدَّادُ بْنُ أَوْسٍ وَعُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَاضِرٌ يُصَدِّقُهُ قَالَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَلْ فِيكُمْ غَرِيبٌ يَعْنِي أَهْلَ الْكِتَابِ فَقُلْنَا لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَمَرَ بِغَلْقِ الْبَابِ وَقَالَ ارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ وَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَرَفَعْنَا أَيْدِيَنَا سَاعَةً ثُمَّ وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ ثُمَّ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ اللَّهُمَّ بَعَثْتَنِي بِهَذِهِ الْكَلِمَةِ وَأَمَرْتَنِي بِهَا وَوَعَدْتَنِي عَلَيْهَا الْجَنَّةَ وَإِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ ثُمَّ قَالَ أَبْشِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ غَفَرَ لَكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ یعلی بن شداد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمارے سردار شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کی، جبکہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے اور ان کی تصدیق کر رہے تھے، انھوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں کوئی اجنبی آدمی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد اہل کتاب تھی، ہم نے کہا: نہیں، اے اللہ کے رسول! پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دروازے کو بند کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: اپنے ہاتھوں کو بلند کر لو اور کہو: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔ پس ہم نے کچھ دیر تک اپنے ہاتھ بلند کیے رکھے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ نیچے رکھ دیا اور فرمایا: اللہ کا شکر ہے، اے اللہ! تو نے مجھے اس کلمہ کے ساتھ بھیجا، تو نے مجھے اس کلمہ کا حکم دیا اور مجھ سے اس پر جنت کا وعدہ کیا اور بیشک تو وعدے کی مخالفت نہیں کرتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خوش ہو جاؤ، بیشک اللہ تعالیٰ نے تم کو بخش دیا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5434
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف راشد بن داود الصنعاني، أخرجه الطبراني في الكبير : 7163، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17121 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17251»