الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَابُ فَضْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ باب: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی فضیلت کا بیان
عَنْهُ أَيْضًا فَقَالَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَوَفَّى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ عَنْ نَجَاةِ هَذَا الْأَمْرِ قَالَ أَبُو بَكْرٍ قَدْ سَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ قَالَ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَنْتَ أَحَقُّ بِهَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا نَجَاةُ هَذَا الْأَمْرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَبِلَ مِنِّي الْكَلِمَةَ الَّتِي عَرَضْتُ عَلَى عَمِّي فَرَدَّهَا عَلَيَّ فَهِيَ لَهُ نَجَاةٌ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو وفات دے دی، جبکہ ابھی تک ہم نے یہ سوال ہی نہیں کیا تھا کہ اس امر کی نجات کیا ہے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا تھا، میں اٹھ کر ان کے پاس چلا گیا اور کہا: میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں، تم ہی اس چیز کے زیادہ مستحق تھے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس امر کی نجات کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھ سے وہ کلمہ قبول کر لیا، جو میں نے اپنے چچا پر پیش کیا تھا، لیکن اس نے اس کو قبول نہیں کیا تھا، تو یہ کلمہ اس کے لیے نجات ہو گا۔