حدیث نمبر: 5425
عَنْهُ أَيْضًا فَقَالَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَوَفَّى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ عَنْ نَجَاةِ هَذَا الْأَمْرِ قَالَ أَبُو بَكْرٍ قَدْ سَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ قَالَ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَنْتَ أَحَقُّ بِهَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا نَجَاةُ هَذَا الْأَمْرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَبِلَ مِنِّي الْكَلِمَةَ الَّتِي عَرَضْتُ عَلَى عَمِّي فَرَدَّهَا عَلَيَّ فَهِيَ لَهُ نَجَاةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو وفات دے دی، جبکہ ابھی تک ہم نے یہ سوال ہی نہیں کیا تھا کہ اس امر کی نجات کیا ہے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا تھا، میں اٹھ کر ان کے پاس چلا گیا اور کہا: میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں، تم ہی اس چیز کے زیادہ مستحق تھے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس امر کی نجات کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھ سے وہ کلمہ قبول کر لیا، جو میں نے اپنے چچا پر پیش کیا تھا، لیکن اس نے اس کو قبول نہیں کیا تھا، تو یہ کلمہ اس کے لیے نجات ہو گا۔

وضاحت:
فوائد: … امر سے مراد وہ وسوسے اور شرّ کی انواع ہیں، جو شیطان بندوں کے نفسوں میں ڈالتا ہے، چونکہ سب سے زیادہ فضیلت والا، بخشش کا ذریعہ بننے والا، توحید کو ثابت کرنے والا اور شرک کی نفی کرنے والا ذکر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ہے، اس لیے ایسے عظیم ذکر سے ہی شیطان اور اس کے وسوسوں سے بچا جا سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5425
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح بشواھده ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20»