الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَاب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ أَسْمَاءِ اللَّهِ الْحُسْنَى باب: اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنی کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 5420
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً غَيْرَ وَاحِدٍ مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ إِنَّهُ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں، یعنی ایک کم سو، جس نے ان کو یاد کر لیا، وہ جنت میں داخل ہو گا، بیشک اللہ تعالیٰ طاق ہے اور طاق کو پسند کرتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … امام قرطبی نے اپنی تفسیر میںکہا: اللہ تعالیٰ نے اپنے اسمائے مبارکہ کو حُسْنٰی (بہت اچھے) قرار دیا ہے، کیونکہ یہ سننے میں بھی حسین لگتے ہیں، دلوں میں بھی ان کا حسن پایا جاتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، کرم، سخاوت، رحمت اور فضل جیسی صفات پر دلالت کرتے ہیں۔