الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الذِّكْرِ مُطْلَقًا وَالاجْتِمَاعِ عَلَيْهِ باب: مطلق طور پر ذکر کی فضیلت اور اس کے لیے اجتماع کرنے کا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْعِبَادِ أَفْضَلُ دَرَجَةً عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ الذَّاكِرُونَ اللَّهَ كَثِيرًا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَنِ الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ لَوْ ضَرَبَ بِسَيْفِهِ فِي الْكُفَّارِ وَالْمُشْرِكِينَ حَتَّى يَنْكَسِرَ وَيَخْتَضِبَ دَمًا لَكَانَ الذَّاكِرُونَ اللَّهَ أَفْضَلَ مِنْهُ دَرَجَةً۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سے بندے روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ فضیلت والے درجے کے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے ہیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والا کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ کافروں اور مشرکوں پر اپنی تلوار چلائے، یہاں تک کہ وہ ٹوٹ جائے اور خون سے لت پت ہو جائے تو پھر بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے ایک درجہ اس سے زیادہ فضیلت والے ہوں گے۔