حدیث نمبر: 5405
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيمَنْ عِنْدَهُ وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ اللہ تعالیٰ کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہو کر کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو اس کی تعلیم دیتے ہیں تو سکینت ان پر نازل ہوتی ہے، رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے پاس والی مخلوق کے سامنے ان کا ذکر کرتا ہے اور جس شخص کو اس کے عمل نے پیچھے کر دیا، اس کو اس کا نسب آگے نہیں لے جا سکے گا۔

وضاحت:
فوائد: … آخرت کی کامیابی اور ناکامی کا انحصار حسب و نسب، حسن و جمال اور مال و دولت پر نہیں ہے، بلکہ وہاں کا سلسلہ اچھے اور برے اعمال سے متعلقہ ہے، اگر اچھے اعمال نہ ہوئے تو نوح علیہ السلام جیسے عظیم پیغمبر کا بیٹا بھی سعادت مند نہیں بن سکے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 5405
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2699، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7427 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7421»