الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الذِّكْرِ مُطْلَقًا وَالاجْتِمَاعِ عَلَيْهِ باب: مطلق طور پر ذکر کی فضیلت اور اس کے لیے اجتماع کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 5404
عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ قَالَ أَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُمَا شَهِدَا لِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَيْهِمَا مَا قَعَدَ قَوْمٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلَّا حَفَّتْ بِهِمُ الْمَلَائِكَةُ وَتَنَزَّلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ وَتَغَشَّتْهُمُ الرَّحْمَةُ وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو مسلم اغر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہما پر گواہی دیتا ہوںکہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گواہی دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ ذکر کرنے کے لیے بیٹھتے ہیں تو فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں، سکینت ان پر نازل ہوتی ہے، رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کا ان ہستیوں کے سامنے ذکر کرتا ہے، جو اس کے پاس ہیں۔