الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الذِّكْرِ مُطْلَقًا وَالاجْتِمَاعِ عَلَيْهِ باب: مطلق طور پر ذکر کی فضیلت اور اس کے لیے اجتماع کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 5402
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ أَنَا مَعَ عَبْدِي حِينَ يَذْكُرُنِي وَفِي لَفْظٍ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ حَيْثُ يَذْكُرُنِي فَإِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي الْحَدِيثَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جب میرا بندہ میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں، میرا بندہ میرے بارے میں جیسا گمان رکھتا ہے، میں ویسا ہی اس کے ساتھ سلوک کرتا ہوں اور میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں، جب وہ مجھے یاد کرتا ہے ، اگر وہ مجھے اپنے نفس میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اس کو اپنے نفس میں یاد کرتا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … اس معیت سے مراد اللہ تعالیٰ کی خاص معیت ہے، جو اس کی رحمت، توفیق، ہدایت اور اعانت کا سبب بنتی ہے، وگرنہ علم اور احاطہ والی عام معیت تو ہر ایک کو حاصل ہے۔