الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الذِّكْرِ مُطْلَقًا وَالاجْتِمَاعِ عَلَيْهِ باب: مطلق طور پر ذکر کی فضیلت اور اس کے لیے اجتماع کرنے کا بیان
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ يَا ابْنَ آدَمَ إِنْ ذَكَرْتَنِي فِي نَفْسِكَ ذَكَرْتُكَ فِي نَفْسِي وَإِنْ ذَكَرْتَنِي فِي مَلَإٍ ذَكَرْتُكَ فِي مَلَإٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ أَوْ فِي مَلَإٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ وَإِنْ دَنَوْتَ مِنِّي شِبْرًا دَنَوْتُ مِنْكَ ذِرَاعًا وَإِنْ دَنَوْتَ مِنِّي ذِرَاعًا دَنَوْتُ مِنْكَ بَاعًا وَإِنْ أَتَيْتَنِي تَمْشِي أَتَيْتُكَ أُهَرْوِلُ قَالَ قَتَادَةُ فَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَسْرَعُ بِالْمَغْفِرَةِ۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے ابن آدم! اگر تو مجھے اپنے نفس میں یاد کرے گا، تو میں بھی تجھے اپنے نفس میں یاد کروں گا، اگر تو مجھے کسی جماعت میںیاد کرے گا تو میں تجھے فرشتوں کی جماعت میں یاد کروں گا، یا ایسی جماعت میں جو تیری جماعت سے بہتر ہو گی، اگر تو ایک بالشت میرے قریب ہو گا تو میں ایک ہاتھ تیرے قریب ہوں گا، اگر تو ایک ہاتھ میرے قریب ہو گا تو میں دو ہاتھوں کے پھیلاؤں کا فاصلہ تیرے قریب ہوں گا اور اگر تم چل کر میرے پاس آئے گا تو میں دوڑ کر تیرے پاس آؤں گا۔ امام قتادہ نے کہا: پس اللہ تعالیٰ بخشنے میں زیادہ جلدی کرنے والا ہے۔