الفتح الربانی
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الذِّكْرِ مُطْلَقًا وَالاجْتِمَاعِ عَلَيْهِ باب: مطلق طور پر ذکر کی فضیلت اور اس کے لیے اجتماع کرنے کا بیان
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ عَمَلًا قَطُّ أَنْجَى لَهُ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَقَالَ مُعَاذٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ وَأَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيكِكُمْ وَأَرْفَعِهَا فِي دَرَجَاتِكُمْ وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ تَعَاطِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَمِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ غَدًا فَتَضْرِبُوا أَعْنَاقَهُمْ وَيَضْرِبُوا أَعْنَاقَكُمْ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ذِكْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندے نے کوئی ایسا عمل نہیں کیا، جو اس کو اللہ کے عذاب سے سب سے زیادہ نجات دلانے والا ہو، ما سوائے ذکر ِ الٰہی کے۔ مزید سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو ایسے عمل کی خبر دوں، جو سب سے بہتر ہے، تمہارے بادشاہ کے ہاں سب سے زیادہ پاکیز ہ ہے، تمہارے درجات کو سب سے زیادہ بلند کرنے والا ہے، تمہارے لیے سونے اور چاندی کا صدقہ کرنے سے بہتر ہے اور تمہارے لیے اس عمل سے بھی بہتر ہے کہ تمہاری اپنے دشمنوں سے ٹکر ہو اور تم ان کی گردنیں کاٹو اور وہ تمہاری گردنیں کاٹیں؟ صحابہ نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! ضرور بتلائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ عمل اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے۔