الفتح الربانی
أبواب السبق والرمي— مقابلہ بازی اور تیر اندازی کے ابواب
بَابُ مَشْرُوعِيَّةِ السَّبْقِ وَآدَابِهِ وَمَا يَجُوزُ الْمُسَابَقَةُ عَلَيْهِ بِعِوض باب: مقابلہ بازی، اس کے آداب اور ان مقابلوں کا بیان جن پر انعام دینا درست ہے
حدیث نمبر: 5165
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ وَهُوَ لَا يَأْمَنُ أَنْ يَسْبِقَ فَلَا بَأْسَ بِهِ وَمَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ قَدْ أَمِنَ أَنْ يَسْبِقَ فَهُوَ قِمَارٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے مقابلہ کرنے والے دو گھوڑوں کے درمیان گھوڑا داخل کر دیا، جبکہ اس کو بازی لے جانے کا یقین نہ ہو تو ایسے کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن جس نے دو گھوڑوں کے درمیان اپنا گھوڑا ڈال دیا، جبکہ اسے آگے نکل جانے کا یقین ہو تو یہ جوا ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: درج ذیل امور پر غور کریں: (۱) اگر امیر یا کوئی اور شخص دو شہسواروں میں دوڑ وغیرہ کا مقابلہ کرائے اور جیتنے والے کو انعام دے تو یہ جائز ہے۔ (۲) اگر دو افراد یا فریق آپس میں یہ طے کر کے مقابلہ کریں کہ ہارنے والا جیتنے والے کو اس قدر انعام دے گا تو یہ جوا ہے اور ناجائز ہے۔ (۳)اگر ان دو مقابلہ کرنے والوں میں کوئی تیسرا فریق داخل ہو جائے، جس کے جیتنے یا ہارنے کا کوئی یقین نہ ہو، بلکہ ان کے ہم پلہ ہونے کی بنا پر کوئی بھی نتیجہ نکل سکتا ہو، اور اس کے جیت جانے پر وہ دونوں اس کو انعام دیں اور ہار جانے پر اس پر کچھ بھی لازم نہ آتا ہو تو یہ صورت جائز ہے۔