حدیث نمبر: 5163
عَنْ أَبِي لَبِيدٍ لِمَازَةَ بْنِ زَبَّارٍ قَالَ أُرْسِلَتِ الْخَيْلُ زَمَنَ الْحَجَّاجِ فَقُلْنَا لَوْ أَتَيْنَا الرِّهَانَ قَالَ فَأَتَيْنَاهُ ثُمَّ قُلْنَا لَوْ أَتَيْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَسَأَلْنَاهُ هَلْ كُنْتُمْ تُرَاهِنُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَيْنَاهُ فَسَأَلْنَاهُ فَقَالَ نَعَمْ لَقَدْ رَاهَنَ عَلَى فَرَسٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ سَبْحَةُ فَسَبَقَ النَّاسَ فَهَشَّ لِذَلِكَ وَأَعْجَبَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو لبید لمازہ بن زبار کہتے ہیں: حجاج کے زمانے میں گھوڑوں میں مقابلہ کیا گیا، ہم نے کہا: اگر ہم مقابلے والی جگہ پر پہنچ جائیں تو بہتر ہو گا، جب ہم اس مقام پر پہنچے تو ہم نے سوچا کہ اگر سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس چلے جائیں اور یہ سوال کر لیں کہ کیا وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں انعام دینے کی شرط لگاتے تھے، پس ہم ان کے پاس گئے اور ان سے یہ سوال کیا، انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے خود سَبْحَہ نامی گھوڑے پر مقابلہ کیا تھا اور جب میں لوگوں سے سبقت لے گیا تو میں خوش ہوا اور اس چیز نے مجھے تعجب میں ڈالا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب السبق والرمي / حدیث: 5163
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابن ابي شيبة: 12/500، والدارقطني: 4/ 301، والبيھقي: 10/ 21، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12627 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12654»