الفتح الربانی
أبواب السبق والرمي— مقابلہ بازی اور تیر اندازی کے ابواب
بَابُ مَشْرُوعِيَّةِ السَّبْقِ وَآدَابِهِ وَمَا يَجُوزُ الْمُسَابَقَةُ عَلَيْهِ بِعِوض باب: مقابلہ بازی، اس کے آداب اور ان مقابلوں کا بیان جن پر انعام دینا درست ہے
حدیث نمبر: 5159
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَبَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْخَيْلِ فَأَرْسَلَ مَا ضُمِّرَ مِنْهَا مِنَ الْحَفْيَاءِ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ وَأَرْسَلَ مَا لَمْ يُضَمَّرْ مِنْهَا مِنْ ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَكُنْتُ فَارِسًا يَوْمَئِذٍ فَسَبَقْتُ النَّاسَ طَفَّفَ بِيَ الْفَرَسُ مَسْجِدَ بَنِي زُرَيْقٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھوڑدوڑی میں مقابلہ کرایا، تضمیر شدہ گھوڑوں کا مقابلہ حفیا سے ثَنِیَّۃُ الْوَدَاع تک تھا اور جن گھوڑوں کی تضمیر نہیں کی گئی تھی، ان کا مقابلہ ثَنِیَّۃُ الْوَدَاع سے مسجد بنی زریق تک تھا، سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس مقابلے میں ایک گھوڑ سوار میں تھا، میں لوگوں سے بازی لے گیا اور میرا گھوڑا مسجد بنی زریق کی دیوار کو بھی پھلانگ گیا۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح بخاری کی روایت کے بعد امام سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: حفیا سے ثَنِیَّۃُ الْوَدَاع تک پانچ یا چھ میل کا فاصلہ ہے اور ثَنِیَّۃُ الْوَدَاع سے مسجد بنی زریق تک ایک میل کا۔