الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَابُ أَنَّ الْحَرَبِيَّ إِذَا أَسْلَمَ قَبْلَ الْقُدْرَةِ عَلَيْهِ أَحْرَزَ أَمْوَالَهُ وَحُكْمِ الْأَرْضِينَ الْمَعْنُومَةِ باب: اس چیز کا بیان کہ اگر حربی قابو میں آنے سے پہلے مسلمان ہو گیا تو اپنے مال کو بچا لے گا، نیز غنیمت والی زمین کا حکم
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ وَهْبٍ الْخَوْلَانِيِّ يَقُولُ لَمَّا افْتَتَحْنَا مِصْرَ بِغَيْرِ عَهْدٍ قَامَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا عَمْرُو بْنَ الْعَاصِ اقْسِمْهَا فَقَالَ عَمْرٌو لَا أَقْسِمُهَا فَقَالَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَاللَّهِ لَتَقْسِمَنَّهَا كَمَا قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ قَالَ عَمْرٌو وَاللَّهِ لَا أَقْسِمُهَا حَتَّى أَكْتُبَ إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ فَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ أَنْ أَقِرَّهَا حَتَّى يَغْزُوَ مِنْهَا حَبَلُ الْحَبَلَةِ۔ سفیان بن وہب خولانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب ہم نے بغیر کسی معاہدے کے مصر فتح کر لیا تو سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے عمرو بن عاص! اس کو تقسیم کرو، لیکن انھوں نے کہا: میں اس کو تقسیم نہیں کروں گا، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! تم ہر صورت میں اس کو ایسے ہی تقسیم کرو گے، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کو تقسیم کیا تھا، انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس کو اس وقت تک تقسیم نہیں کروں گا،جب تک اس کی تفصیل لکھ کر امیر المومنین کو نہیں بھیج دوں گا، پھر انھوں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا اور امیر المومنین نے جوابی تحریر میں یہ حکم دیا: اس کو ایسے برقرار رکھو، یہاں تک کہ حاملہ خواتین کے حمل کے بچے جہاد کریں۔