الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَابُ أَنَّ الْحَرَبِيَّ إِذَا أَسْلَمَ قَبْلَ الْقُدْرَةِ عَلَيْهِ أَحْرَزَ أَمْوَالَهُ وَحُكْمِ الْأَرْضِينَ الْمَعْنُومَةِ باب: اس چیز کا بیان کہ اگر حربی قابو میں آنے سے پہلے مسلمان ہو گیا تو اپنے مال کو بچا لے گا، نیز غنیمت والی زمین کا حکم
حدیث نمبر: 5126
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا قَرْيَةٍ أَتَيْتُمُوهَا فَأَقَمْتُمْ فِيهَا فَسَهْمُكُمْ فِيهَا وَأَيُّمَا قَرْيَةٍ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ خُمُسَهَا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ هِيَ لَكُمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’جس بستی میں تم آئے اور (اس بستی والوں سے مال پر مصالحت کر کے) وہاں قیام کیا تو تمہارے لیے تمہارا وہی حصہ ہو گا، لیکن جس بستی والوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی (اور تم نے ان سے لڑائی کر کے فتح حاصل کر لی تو ان کا مال غنیمت ہو گا اور) اس کا خُمس اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گا اور باقی سارا تم کو مل جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث ِ مبارکہ کے پہلے حصے کا مفہوم یہ ہے کہ جتنے مال پر مصالحت ہو گی، وہ تمہارا حق ہو گا اور دوسرے حصے میں مالِ غنیمت کا ذکر ہے۔