الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَابُ أَنَّ الْحَرَبِيَّ إِذَا أَسْلَمَ قَبْلَ الْقُدْرَةِ عَلَيْهِ أَحْرَزَ أَمْوَالَهُ وَحُكْمِ الْأَرْضِينَ الْمَعْنُومَةِ باب: اس چیز کا بیان کہ اگر حربی قابو میں آنے سے پہلے مسلمان ہو گیا تو اپنے مال کو بچا لے گا، نیز غنیمت والی زمین کا حکم
حدیث نمبر: 5125
عَنْ بُرَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ مَا أَسْلَمُوا عَلَيْهِ مِنْ أَرَاضِيهِمْ وَرَقِيقِهِمْ وَمَاشِيَتِهِمْ وَلَيْسَ عَلَيْهِمْ فِيهِ إِلَّا الصَّدَقَةُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زمین، غلام اور مویشی وغیرہ سمیت وہ لوگ جس جس چیز پر ایمان لائے ہیں، وہ ان ہی کی ہو گی، ان کے ان مالوں میں صرف زکوۃ فرض ہو گی۔
وضاحت:
فوائد: … یہ احادیث تو ضعیف ہیں، لیکن مسئلہ ایسے ہی ہے کہ اگر جنگی دشمن پکڑے جانے سے پہلے مسلمان ہو جائے تو وہ اپنا مال بچا لے گا، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْہَدُوا أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰہِ وَیُقِیمُوا الصَّلَاۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکَاۃَ فَإِذَا فَعَلُوا ذٰلِکَ عَصَمُوا مِنِّی دِمَاء َہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ إِلَّا بِحَقِّ الْإِسْلَامِ وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللّٰہِ)) … مجھے لوگوں سے قتال کا حکم دیا گیا ہے حتی کہ وہ یہ گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں، جب وہ ایسا کریں گے تو اپنے خون اور مال مجھ سے بچا لیں گے، مگر اسلام کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہو گا۔ (صحیح بخاری: ۲۵، صحیح مسلم: ۲۲)