الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَابُ مَا يُفْعَلُ بِالْجَاسُوسِ إِذَا كَانَ مُسْلِمًا و حَرَبِيًّا أَوْ ذِميًّا باب: اس چیز کا بیان کہ جاسوس کے ساتھ کیا کیا جائے، وہ مسلمان ہو یا حربی یا ذمی
حدیث نمبر: 5119
عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ عَنْ فُرَاتِ بْنِ حَيَّانَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِهِ وَكَانَ عَيْنًا لِأَبِي سُفْيَانَ وَحَلِيفًا فَمَرَّ بِحَلْقَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ إِنِّي مُسْلِمٌ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّهُ مُسْلِمٌ فَقَالَ إِنَّ مِنْكُمْ رِجَالًا نَكِلُهُمْ إِلَى إِيمَانِهِمْ مِنْهُمْ فُرَاتُ بْنُ حَيَّانَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا فرات بن حیان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو قتل کرنے کا حکم دیا، وہ ابو سفیان کا جاسوس اور حلیف تھا، بعد میں جب وہ انصاریوں کی ایک مجلس کے پاس سے گزرا تو اس نے کہا: بیشک میں تو مسلمان ہوں، جب انصار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا کہ وہ تو کہتا ہے کہ وہ مسلمان ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک تم میں بعض افراد ایسے ہیں کہ ہم ان کو ان کے ایمان کے سپرد کرتے ہیں، ان میں سے ایک فرات بن حیان بھی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … غزوۂ خندق کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا فرات رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا، پھر یہ مسلمان ہو گئے تھے اور بہترین مسلمان بن گئے تھے، بعد میں انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ہجرت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تمام غزووں میں شرکت کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے تو انھوں نے کوفہ میںسکونت اختیار کر لی تھی۔