حدیث نمبر: 5118
حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا فَجَاءَ عَيْنٌ لِلْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ يَتَصَبَّحُونَ فَدَعَوْهُ إِلَى طَعَامِهِمْ فَلَمَّا فَرَغَ الرَّجُلُ رَكِبَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَذَهَبَ مُسْرِعًا لِيُنْذِرَ أَصْحَابَهُ قَالَ سَلَمَةُ فَأَدْرَكْتُهُ فَأَنَخْتُ رَاحِلَتَهُ وَضَرَبْتُ عُنُقَهُ فَغَنَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا، اتنے میں مشرکوں کا ایک جاسوس پہنچ گیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے، صحابۂ کرام نے اس کو کھانے کی طرف بلایا، جب وہ کھانے سے فارغ ہوا تو اپنی سواری پر سوار ہوا اور جلدی سے واپس ہونا شروع کر دیا، دراصل وہ اپنے ساتھیوں کو متنبہ کرنا چاہتا تھا۔ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اس کے پیچھے دوڑا اور اس کو پا لیا اور اس کے اونٹ کو بٹھا کر اس کی گردن قلم کر دی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا سلب مجھے بطورِ غنیمت دے دیا۔

وضاحت:
فوائد: … یہ غزوۂ ہوازن و غطفان کا واقعہ ہے۔ صحیح بخاری کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں حکم دیا: ((اُطْلُبُوْہُ وَاقْتُلُوْہُ۔)) … اس کو تلاش کر کے قتل کر دو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 5118
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3051، ومسلم: 1754، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16519 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16634»