الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
باب الاسِيرِ يَدَّعِى الْإِسْلَامَ قَبْلَ الْأَسَرِ وَلَهُ شاهِدٌ وَفَضْلُ مَنْ يُسْلِمُ مِنَ الْأَسْرَى باب: اس قیدی کا بیان جو قید سے پہلے قبولیت ِ اسلام کا دعوی کر دے، نیز اسلام قبول کرنے والے قیدی کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 5111
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَجِبَ رَبُّنَا مِنْ قَوْمٍ يُقَادُونَ إِلَى الْجَنَّةِ فِي السَّلَاسِلِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے ربّ کو ان لوگوں سے تعجب ہوا ہے، جن کو زنجیروں میں جکڑ کر جنت کی طرف لایا جا رہا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ کچھ لوگوں کو ان کی کفر کی حالت میںقید کیا جائے گا، پھر جب ان کو اسلام کی صحت و حقیقت کا پتہ چلے گا تو وہ بخوشی اسلام قبول کر لیں گے، گویا کہ قید کی مجبوری ان کے اسلام کا سبب بنے گی، لیکن ان کے حق میں اس مجبوری کا انجام جنت کی صورت میںنکلا۔