حدیث نمبر: 5110
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ يَعْنِي وَجِيءَ بِالْأُسَارَى قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَا يَنْفَلِتَنَّ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا بِفِدَاءٍ أَوْ ضَرْبَةِ عُنُقٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا سُهَيْلُ بْنُ بَيْضَاءَ فَإِنِّي قَدْ سَمِعْتُهُ يَذْكُرُ الْإِسْلَامَ قَالَ فَسَكَتَ قَالَ فَمَا رَأَيْتُنِي فِي يَوْمٍ أَخْوَفَ أَنْ تَقَعَ عَلَيَّ حِجَارَةٌ مِنَ السَّمَاءِ فِي ذلِكَ الْيَوْمِ حَتَّى قَالَ إِلَّا سُهَيْلُ بْنُ بَيْضَاءَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب غزوۂ بدر والے دن قیدیوں کو لایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے کوئی شخص بھاگنے نہ پائے، مگر فدیہ دے کر، یا گردن اتروا کر۔ میں (عبد اللہ) نے کہہ دیا: اے اللہ کے رسول! مگر سہیل بن بیضا، کیونکہ میں نے اس کو قبولیت ِ اسلام کی بات کرتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بات سن کر خاموش ہو گئے، میں نے اس دن اپنے آپ کو دیکھا کہ مجھے اس چیز سے سب سے زیادہ ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھ پر آسمان سے پتھر گرنے لگ جائیں، (بس اسی کیفیت میں تھا کہ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ما سوائے سہیل بن بیضاء کے۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غصے کی وجہ سے خاموشی اختیار کی ہے، اس لیے وہ خوفزدہ ہو گئے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی رائے سے موافقت کی تو وہ مطمئن ہو گئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 5110
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابو عبيدة لم يسمع من ابيه عبد الله بن مسعود، أخرجه الترمذي: 1714، 3084، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3632 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3632»