الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
باب النهي عن قتل الاسير مَا لَمْ يَحْتَلِم أو يُنتَ، وَعَنْ قَتْلِ آسِيْرِ غَيْرِهِ، وَعَنِ التَّفْرِيْقِ بَيْنَ الْوَالِدَةِ وَوَلَدِهَا، وَعَنْ وَطيء الْحُبَالَي مِنَ الأسرى، وَعَنْ قَتْلِ الْآسِيرِ صَبْرًا باب: ان امور سے ممانعت کابیان: احتلام ہونے یا زیر ناف بالوں کے اگنے سے پہلے قیدی کو قتل کرنا، دوسرے کے قیدی کو قتل کرنا، قیدیوں میں والدہ اور اس کی اولاد میں تفریق ڈالنا، حاملہ قیدی خواتین سے جماع کرنا اور قیدی کو باندھ کر مارنا
حدیث نمبر: 5109
عَنْ عُبَيْدِ بْنِ تَعْلَى قَالَ غَزَوْنَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَأُتِيَ بِأَرْبَعَةِ أَعْلَاجٍ مِنَ الْعَدُوِّ فَأَمَرَ بِهِمْ فَقُتِلُوا صَبْرًا بِالنَّبْلِ فَبَلَغَ ذلِكَ أَبَا أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ قَتْلِ الصَّبْرِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبید بن تعلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے عبد الرحمن بن خالد بن ولید کی قیادت میں غزوہ کیا، ان کے پاس عجمی لوگوں میں چار کافر لائے گئے اور انھوں نے ان کے بارے میں حکم دیا، پس ان کو باندھ کر تیر کے ساتھ قتل کر دیا گیا، جب یہ بات سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کو پتہ چلی تو انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا تھا کہ آپ باندھ کر قتل کرنے سے منع کر رہے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ایسے ہوتا ہے کہ روم کے علاقے میں لڑا جانے والا غزوۂ قسطنطنیہ ہے، کیونکہ اس کے امیر عبد الرحمن بن خالد تھے، یہ ۴۴ ھ میںپیش آ یا تھا۔