الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
باب النهي عن قتل الاسير مَا لَمْ يَحْتَلِم أو يُنتَ، وَعَنْ قَتْلِ آسِيْرِ غَيْرِهِ، وَعَنِ التَّفْرِيْقِ بَيْنَ الْوَالِدَةِ وَوَلَدِهَا، وَعَنْ وَطيء الْحُبَالَي مِنَ الأسرى، وَعَنْ قَتْلِ الْآسِيرِ صَبْرًا باب: ان امور سے ممانعت کابیان: احتلام ہونے یا زیر ناف بالوں کے اگنے سے پہلے قیدی کو قتل کرنا، دوسرے کے قیدی کو قتل کرنا، قیدیوں میں والدہ اور اس کی اولاد میں تفریق ڈالنا، حاملہ قیدی خواتین سے جماع کرنا اور قیدی کو باندھ کر مارنا
حدیث نمبر: 5104
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى بِالسَّبْيِ فَيُعْطِي أَهْلَ الْبَيْتِ جَمِيعًا كَرَاهِيَةَ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَهُمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس قیدی لائے جاتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (آپس میں قرابت والے) قیدی ایک گھر والوں کو دے دیتے، اس چیز کو ناپسند کرتے ہوئے کہ ان کے درمیان جدائی ہو جائے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: أَمَرَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَنْ اَبِیْعَ غُلَامَیْنِ أَخَوَیْنِ فَبِعْتُہُمَا فَفَرَّقْتُ بَیْنَہُمَا فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ: ((أَدْرِکْہُمَا فَأَرْجِعْہُمَا وَلَا تَبِعْہُمَا اِلَّا جَمِیْعًا)) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دو غلاموں کو بیچنے کا حکم دیا، وہ دو آپس میں بھائی تھے، میں