الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
باب النهي عن قتل الاسير مَا لَمْ يَحْتَلِم أو يُنتَ، وَعَنْ قَتْلِ آسِيْرِ غَيْرِهِ، وَعَنِ التَّفْرِيْقِ بَيْنَ الْوَالِدَةِ وَوَلَدِهَا، وَعَنْ وَطيء الْحُبَالَي مِنَ الأسرى، وَعَنْ قَتْلِ الْآسِيرِ صَبْرًا باب: ان امور سے ممانعت کابیان: احتلام ہونے یا زیر ناف بالوں کے اگنے سے پہلے قیدی کو قتل کرنا، دوسرے کے قیدی کو قتل کرنا، قیدیوں میں والدہ اور اس کی اولاد میں تفریق ڈالنا، حاملہ قیدی خواتین سے جماع کرنا اور قیدی کو باندھ کر مارنا
حدیث نمبر: 5102
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَعَاطَى أَحَدُكُمْ أَسِيرَ أَخِيهِ فَيَقْتُلَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی اپنے بھائی کے قیدی کے درپے نہ ہو کہ وہ اس کو قتل کر دے۔