الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
باب النهي عن قتل الاسير مَا لَمْ يَحْتَلِم أو يُنتَ، وَعَنْ قَتْلِ آسِيْرِ غَيْرِهِ، وَعَنِ التَّفْرِيْقِ بَيْنَ الْوَالِدَةِ وَوَلَدِهَا، وَعَنْ وَطيء الْحُبَالَي مِنَ الأسرى، وَعَنْ قَتْلِ الْآسِيرِ صَبْرًا باب: ان امور سے ممانعت کابیان: احتلام ہونے یا زیر ناف بالوں کے اگنے سے پہلے قیدی کو قتل کرنا، دوسرے کے قیدی کو قتل کرنا، قیدیوں میں والدہ اور اس کی اولاد میں تفریق ڈالنا، حاملہ قیدی خواتین سے جماع کرنا اور قیدی کو باندھ کر مارنا
حدیث نمبر: 5101
عَنْ كَثِيرِ بْنِ سَائِبٍ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنَا قُرَيْظَةَ أَنَّهُمْ عُرِضُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ قُرَيْظَةَ فَمَنْ كَانَ مِنْهُمْ مُحْتَلِمًا أَوْ نَبَتَتْ عَانَتُهُ قُتِلَ وَمَنْ لَا تُرِكَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ کثیر بن سائب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: قریظہ کے دو بیٹوں نے مجھے بیان کیا کہ ان کو بنو قریظہ کی بدعہدی کے زمانے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پیش کیا گیا، پس ان میں سے جو بالغ ہو چکا تھا یا اس کے زیرِ ناف بال اگ چکے تھے، اس کو قتل کر دیا گیا اور جو ایسے نہیں تھا، اس کو چھوڑ دیا گیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … زیر ناف بالوں کے اُگ آنے کو بلوغت کی علامت سمجھا گیا، اکثر اہل علم کا خیال یہ ہے کہ مشرک لوگوں کے قتل یا جزیہ جیسے مسائل حل کرنے کے لیے زیرناف بالوں کو بلوغت یا عدم بلوغت کی حد قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ ان کی بات غیر معتبر ہو گی۔