حدیث نمبر: 5101
عَنْ كَثِيرِ بْنِ سَائِبٍ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنَا قُرَيْظَةَ أَنَّهُمْ عُرِضُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ قُرَيْظَةَ فَمَنْ كَانَ مِنْهُمْ مُحْتَلِمًا أَوْ نَبَتَتْ عَانَتُهُ قُتِلَ وَمَنْ لَا تُرِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ کثیر بن سائب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: قریظہ کے دو بیٹوں نے مجھے بیان کیا کہ ان کو بنو قریظہ کی بدعہدی کے زمانے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پیش کیا گیا، پس ان میں سے جو بالغ ہو چکا تھا یا اس کے زیرِ ناف بال اگ چکے تھے، اس کو قتل کر دیا گیا اور جو ایسے نہیں تھا، اس کو چھوڑ دیا گیا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … زیر ناف بالوں کے اُگ آنے کو بلوغت کی علامت سمجھا گیا، اکثر اہل علم کا خیال یہ ہے کہ مشرک لوگوں کے قتل یا جزیہ جیسے مسائل حل کرنے کے لیے زیرناف بالوں کو بلوغت یا عدم بلوغت کی حد قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ ان کی بات غیر معتبر ہو گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 5101
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه النسائي: 6/155، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19002 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19211»