الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَابُ فِي فِدَاءِ أَسْرَى بَدْرٍ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْقُرْآنِ بِسَبَبِهِ باب: بدر کے قیدیوں کے فدیے اور اس کی وجہ سے نازل ہونے والے قرآن کا بیان
حدیث نمبر: 5099
- عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَرِيرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: ((لَوْ كَانَ مُطْعِمُ بْنُ عَدِيٍّ حَيًّا فَكَلَّمَنِي فِي هَؤُلَاءِ التَّتْنَى أَطْلَقْتُهُمْ)) يَعْنِي أَسَارَى بَدْرٍ -ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جریر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتا اور (بدر کے) ان بد بودار قیدیوں کے بارے میں مجھ سے بات کرتا تو میں ان کو (بغیر فدیے کے) آزاد کر دیتا۔
وضاحت:
فوائد: … جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طائف سے واپس مکہ مکرمہ تشریف لائے تو مطعم بن عدی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرح پناہ دی تھی کہ اس نے اپنے چار بیٹوں کو حکم دیا، وہ اسلحہ سے لیس ہو کر کعبہ کے کونوں کے پاس کھڑے ہو گئے، یہ منظر دیکھ کر قریشیوں نے کہا: اے مطعم! تو ایسا آدمی ہے کہ تیری پناہ کو نہیں توڑا جا سکتا۔ یہ اس شخص کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر احسان تھا، اس کے بدلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی سفارش قبول کرنے کا ارادہ کیا۔