الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَابُ فِي فِدَاءِ رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِرَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَمَنِ افْتَدَى بِتَعْلِيمِ أَوْلَادِ الْأَنْصَارِ الْكِتَابَةَ وَكَرَاهَةِ قُبُولِ الْفِدْيَةِ عَلَى تَسْلِيمٍ جُمَّتِ قَتْلَى الْعَدُوِّ باب: ایک مشرک کے فدیے میں دو مسلمان لینے کا بیان¤ان قیدیوں کا بیان جنھوں نے اپنے فدیے میں انصاریوں کے بچوں کو کتابت کی تعلیم دی
حدیث نمبر: 5096
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أُصِيبَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَطَلَبُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجِنُّوهُ فَقَالَ لَا وَلَا كَرَامَةَ لَكُمْ قَالُوا فَإِنَّا نَجْعَلُ لَكَ عَلَى ذَلِكَ جُعْلًا قَالَ وَذَلِكَ أَخْبَثُ وَأَخْبَثُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ غزوۂ خندق کے موقع پر ایک مشرک قتل ہو گیا، اُن لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے اس آدمی کو دفنانا چاہتے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، تمہارے لیے کوئی کرامت اور عزت نہیں ہے۔ انھوں نے کہا: ہم اس کے عوض آپ کو کچھ دے دیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تو بہت خبیث چیز ہو گی، بلکہ سب سے زیادہ خبیث ہو گی۔