الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَابُ فِي فِدَاءِ رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِرَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَمَنِ افْتَدَى بِتَعْلِيمِ أَوْلَادِ الْأَنْصَارِ الْكِتَابَةَ وَكَرَاهَةِ قُبُولِ الْفِدْيَةِ عَلَى تَسْلِيمٍ جُمَّتِ قَتْلَى الْعَدُوِّ باب: ایک مشرک کے فدیے میں دو مسلمان لینے کا بیان¤ان قیدیوں کا بیان جنھوں نے اپنے فدیے میں انصاریوں کے بچوں کو کتابت کی تعلیم دی
حدیث نمبر: 5095
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ قَتَلَ الْمُسْلِمُونَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَأَعْطَوْا بِجِيفَتِهِ مَالًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ادْفَعُوا إِلَيْهِمْ جِيفَتَهُمْ فَإِنَّهُ خَبِيثُ الْجِيفَةِ خَبِيثُ الدِّيَةِ فَلَمْ يَقْبَلْ مِنْهُمْ شَيْئًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مسلمانوں نے غزوۂ خندق کے موقع پر ایک مشرک قتل کر دیا، انھوں نے اس کی لاش کے عوض مال دینا چاہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: ان کی لاش ان کے سپرد کر دو، یہ لاش بھی خبیث ہے اور اس کا عوض بھی خبیث ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے عوض ان سے کچھ وصول نہ کیا۔
وضاحت:
فوائد: … امام مبارکپوری رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: معلوم ہوا کہ مشرک کی لاش کو بیچنا جائز نہیں ہے، کیونکہ وہ مردار ہے، جس کا مالک بننا اور اس کا عوض لینا جائز ہی نہیں ہے، شارع علیہ السلام نے مردار اور بتوں کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے، امام بخاری نے اپنی صحیح میں یہ باب قائم کیا: بَاب طَرْحِ جِیَفِ الْمُشْرِکِینَ فِی الْبِئْرِ وَلَا یُؤْخَذُ لَہمْ ثَمَنٌ (مشرکوں کی لاشوں کو کنویں میں پھینکنے اور ان کی قیمت نہ لینے کا بیان) پھر اس باب میں وہ حدیث ذکر کی، جس کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو جہل اور قریش کے دوسرے سرداروں پر بد دعا کی تھی، (یہ دعا قبول ہوئی اور) وہ سردار غزوۂ بدر میں قتل ہو گئے اور ان کو کنویں میں ڈال دیا گیا۔ (تحفۃ الاحوذی: ۵/ ۳۰۷)