الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَاب تَحْرِيمِ الْغُلُولِ وَالتَّشْدِيدِ فِيْهِ وَتَحْرِيْقِ رحْلِ الْغَالِ وَمَا جَاءَ فِي النَّهْبَي باب: خیانت کے حرام ہونے اور اس میں سختی کا بیان، نیز خائن کا سامانِ سفر جلانے اور لوٹ مار کا بیان
حدیث نمبر: 5081
عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْخُذُ الْوَبَرَةَ مِنْ قُصَّةٍ مِنْ فَيْءِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيَقُولُ مَا لِي مِنْ هَذَا إِلَّا مِثْلَ مَا لِأَحَدِكُمْ إِلَّا الْخُمُسَ وَهُوَ مَرْدُودٌ فِيكُمْ فَأَدُّوا الْخَيْطَ وَالْمِخْيَطَ فَمَا فَوْقَهُمَا وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُولَ فَإِنَّهُ عَارٌ وَشَنَارٌ عَلَى صَاحِبِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مالِ فئے کے بالوں کے ایک گچھے میں سے ایک بال پکڑا اور فرمایا: اس مالِ غنیمت میں سے میرا بھی وہی حصہ ہے، جو تم میں سے کسی ایک کا ہے، ما سوائے خُمُس کے اور وہ بھی تم پر لوٹا دیا جائے گا، لہذا دھاگہ اور سوئی اور ان سے چھوٹی بڑی چیزیں سب کچھ ادا کردو، اور خیانت سے بچو، کیونکہ خیانت قیامت کے دن خائن کے لیے عار وشنار اور عیب و رسوائی کا باعث ہو گی۔