حدیث نمبر: 5081
عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْخُذُ الْوَبَرَةَ مِنْ قُصَّةٍ مِنْ فَيْءِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيَقُولُ مَا لِي مِنْ هَذَا إِلَّا مِثْلَ مَا لِأَحَدِكُمْ إِلَّا الْخُمُسَ وَهُوَ مَرْدُودٌ فِيكُمْ فَأَدُّوا الْخَيْطَ وَالْمِخْيَطَ فَمَا فَوْقَهُمَا وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُولَ فَإِنَّهُ عَارٌ وَشَنَارٌ عَلَى صَاحِبِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مالِ فئے کے بالوں کے ایک گچھے میں سے ایک بال پکڑا اور فرمایا: اس مالِ غنیمت میں سے میرا بھی وہی حصہ ہے، جو تم میں سے کسی ایک کا ہے، ما سوائے خُمُس کے اور وہ بھی تم پر لوٹا دیا جائے گا، لہذا دھاگہ اور سوئی اور ان سے چھوٹی بڑی چیزیں سب کچھ ادا کردو، اور خیانت سے بچو، کیونکہ خیانت قیامت کے دن خائن کے لیے عار وشنار اور عیب و رسوائی کا باعث ہو گی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 5081
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن لغيره، أخرجه البزار: 1734، والطبراني في الكبير : 18/ 649 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17154 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17285»