الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَاب تَحْرِيمِ الْغُلُولِ وَالتَّشْدِيدِ فِيْهِ وَتَحْرِيْقِ رحْلِ الْغَالِ وَمَا جَاءَ فِي النَّهْبَي باب: خیانت کے حرام ہونے اور اس میں سختی کا بیان، نیز خائن کا سامانِ سفر جلانے اور لوٹ مار کا بیان
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ تُوُفِّيَ بِخَيْبَرَ وَأَنَّهُ ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ قَالَ فَتَغَيَّرَتْ وُجُوهُ الْقَوْمِ لِذَلِكَ فَلَمَّا رَأَى الَّذِي بِهِمْ قَالَ إِنَّ صَاحِبَكُمْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ فَفَتَّشْنَا مَتَاعَهُ فَوَجَدْنَا فِيهِ خَرَزًا مِنْ خَرَزِ الْيَهُودِ مَا يُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ۔ سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مسلمان آدمی خیبر کے دن فوت ہو گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم خود اپنے ساتھی کی نمازِ جنازہ ادا کر لو۔ یہ بات سن کر لوگوں کے چہرے فق ہو گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی یہ کیفیت دیکھی تو فرمایا: تمہارے ساتھی نے اللہ کی راہ میں خیانت کی ہے۔ پس جب ہم نے اس کے سامان کو کھولا تو یہودیوں کے موتیوں میں سے کچھ موتی اس کے پاس پائے، وہ دو درہم کی قیمت کے تھے۔