الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَاب تَحْرِيمِ الْغُلُولِ وَالتَّشْدِيدِ فِيْهِ وَتَحْرِيْقِ رحْلِ الْغَالِ وَمَا جَاءَ فِي النَّهْبَي باب: خیانت کے حرام ہونے اور اس میں سختی کا بیان، نیز خائن کا سامانِ سفر جلانے اور لوٹ مار کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَقْسِمَ غَنِيمَةً أَمَرَ بِلَالًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَنَادَى ثَلَاثًا فَأَتَى رَجُلٌ بِزِمَامٍ مِنْ شَعَرٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنْ قَسَمَ الْغَنِيمَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ مِنْ غَنِيمَةٍ كُنْتُ أَصَبْتُهَا قَالَ أَمَا سَمِعْتَ بِلَالًا يُنَادِي ثَلَاثًا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ فَاعْتَلَّ لَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَنْ أَقْبَلَهُ حَتَّى تَكُونَ أَنْتَ الَّذِي تُوَافِينِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مالِ غنیمت تقسیم کرنے کا ارادہ کرتے تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے، پس وہ تین بار اعلان کرتے (کہ جس آدمی کے پاس مالِ غنیمت میں سے کوئی چیز ہے تو وہ پیش کر دے)۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مالِ غنیمت کی تقسیم سے فارغ ہوئے تو پھر ایک آدمی وہ ڈوری لے کر آیا جو ناک کے سوراخ میں سے نکال کر باگ سے باندھی جاتی ہے اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بھی مالِ غنیمت میں سے ہے، میں نے لے لی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تو نے سنا نہیں کہ اس کے بارے میں بلال نے تین بار اعلان کیا؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر کس چیز نے تجھ کو روک دیا کہ تو اس کو لے کر آئے؟ اس نے عذر تو پیش کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب میں ہر گز اس کو قبول نہیں کروں گا اور تو خود اس کو قیامت کے دن پورا پورا ادا کرے گا۔