حدیث نمبر: 5065
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَحْلِفُ عَلَى أَيْمَانٍ ثَلَاثٍ يَقُولُ وَاللَّهِ مَا أَحَدٌ أَحَقُّ بِهَذَا الْمَالِ مِنْ أَحَدٍ وَمَا أَنَا بِأَحَقَّ بِهِ مِنْ أَحَدٍ وَاللَّهِ مَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَحَدٌ إِلَّا وَلَهُ فِي هَذَا الْمَالِ نَصِيبٌ إِلَّا عَبْدًا مَمْلُوكًا وَلَكِنَّا عَلَى مَنَازِلِنَا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى وَقَسْمِنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَالرَّجُلُ وَبَلَاؤُهُ فِي الْإِسْلَامِ وَالرَّجُلُ وَقَدَمُهُ فِي الْإِسْلَامِ وَالرَّجُلُ وَغَنَاؤُهُ فِي الْإِسْلَامِ وَالرَّجُلُ وَحَاجَتُهُ وَوَاللَّهِ لَئِنْ بَقِيتُ لَهُمْ لَيَأْتِيَنَّ الرَّاعِيَ بِجَبَلِ صَنْعَاءَ حَظَّهُ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَهُوَ يَرْعَى مَكَانَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ مالک بن اوس بن حدثان سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تین امور پر قسمیں اٹھاتے اور کہتے تھے: اللہ کی قسم! کوئی ایک کسی دوسرے سے اس مالِ فے کا زیادہ مستحق نہیں ہے اور میں بھی کسی سے زیادہ اس کا حق نہیں رکھتا، اللہ کی قسم ہے، ہر مسلمان کا اس مال میں حصہ ہے، ما سوائے غلام کے، ہاں کتاب اللہ کی تفصیل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تقسیم کے مطابق ہمارے مرتبے مختلف ہے، مثلا: ایک آدمی اور اس کا اسلام میں آزمایا جانا ہے، ایک آدمی اور اس کا اسلام کی طرف سبقت کرنا ہے، ایک آدمی اور اس کا غنی ہونا ہے اور ایک آدمی اور اس کی حاجتمندی ہے، اللہ کی قسم ہے، اگر میں زندہ رہا تو صنعاء کے پہاڑ میں بکریاں چرانے والے تک اس کا حصہ پہنچ جائے گا، جبکہ وہ اسی جگہ پر بکریاں چرا رہا ہو گا۔

وضاحت:
فوائد: … آدمی اور اس کا اسلام میں آزمایا جانا …۔ اس سے مراد یہ ہے کہ صحابۂ کرام کو ان کی نیکیوں اور ان کی اسلام میں سبقت یا قدامت کو دیکھ کر ان کو مال فئے میں سے حصہ دیا جائے گا۔ آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ حقدار کو اس کا حق پہنچے گا، اگرچہ وہ یمن میں صنعاء کے پہاڑ میں بکریاں چرا رہا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 5065
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، محمد بن اسحاق مدلس، وقد عنعن، ومحمد بن ميسر الصاغاني ضعيف، لكنه تُوبِع، أخرجه أبوداود: 2950، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 292 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 292»