حدیث نمبر: 5064
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَتْ أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِمَّا لَمْ يُوجِفِ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَالِصَةً وَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ مِنْهَا نَفَقَةَ سَنَةٍ وَفِي لَفْظٍ قُوتَ سَنَةٍ وَمَا بَقِيَ جَعَلَهُ فِي الْكُرَاعِ وَالسِّلَاحِ عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو نضیر کے مال وہ تھے، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو بطورِ مالِ فے دیئے تھے، مسلمانوں نے اس مال کو حاصل کرنے کے لیے گھوڑوں اور سواریوں کو نہیں دوڑایا تھا، پس یہ مال خالص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے تھا (اور اپنی مرضی کے مطابق اس میں تصرف کر سکتے تھے)، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اہل و عیال کے لیے ایک سال کا دانہ پانی رکھ لیتے اور اس سے جو بچ جاتا، اس کو اللہ کی راہ میں تیاری کرتے ہوئے گھوڑوں اور اسلحہ پر خرچ کر دیتے۔

وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ذات، اپنے رشتہ داروں اور یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے جیسے مناسب سمجھتے، مالِ فے میں تصرف کرتے تھے، اس مال کی تقسیم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مرضی پر موقوف تھی، اس میں کسی کا کوئی مخصوص حق نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 5064
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2904، 4885، ومسلم: 1757، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 171 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 171»