حدیث نمبر: 5056
عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ شَفَانِي اللَّهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَهَبْ لِي هَذَا السَّيْفَ قَالَ إِنَّ هَذَا السَّيْفَ لَيْسَ لَكَ وَلَا لِي ضَعْهُ قَالَ فَوَضَعْتُهُ ثُمَّ رَجَعْتُ قُلْتُ عَسَى أَنْ يُعْطَى هَذَا السَّيْفَ الْيَوْمَ مَنْ لَمْ يُبْلِ بَلَائِي قَالَ إِذَا رَجُلٌ يَدْعُونِي مِنْ وَرَائِي قَالَ قُلْتُ قَدْ أُنْزِلَ فِيَّ شَيْءٌ قَالَ كُنْتَ سَأَلْتَنِي السَّيْفَ وَلَيْسَ هُوَ لِي وَإِنَّهُ قَدْ وُهِبَ لِي فَهُوَ لَكَ قَالَ وَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اے اللہ رسول! تحقیق اللہ تعالیٰ نے مجھے مشرکوں سے شفا دے دی ہے، پس آپ یہ تلوار مجھے ہبہ کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تلوار میری ہے نہ تیری، سو اس کو یہیں رکھ دے۔ پس میں نے اس کو رکھ دیا، پھر واپس لوٹ گیا اور میں نے کہا: ممکن ہے کہ یہ تلوار ایسے بندے کو دے دی جائے، جو میری طرح کی بہادری کا مظاہرہ نہ کر سکے، اتنے میں ایک آدمی نے میرے پیچھے سے مجھے بلایا ، میں نے کہا: لگتا ہے کہ میرے بارے میں کوئی خاص حکم اترا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے مجھ سے اس تلوار کا سوال کیا تھا، جبکہ یہ میری نہیں تھی، اب یہ مجھے ہبہ کر دی گئی ہے، لہذا اب یہ تیری ہے۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی : لوگ آپ سے انفال کے بارے میں سوال کرتے ہیں، پس کہہ دیجئے کہ انفال، اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … حکمران کو یہ حق حاصل ہے کہ بعض مجاہدین کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے ان کو دوسرے مجاہدین سے زائد حصہ دے دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 5056
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 2740، والترمذي: 3079، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1538 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1538»