الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَابُ إِنَّ السَّلْبَ لِلْقَاتِلِ وَأَنَّهُ غَيْرَ مَخْمُوسٍ باب: اس چیز کا بیان کہ سلب قاتل کا ہو گا اور اس میں سے خُمُس نہیں لیا جائے گا
حدیث نمبر: 5054
عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُخَمِّسِ السَّلْبَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عوف بن مالک اشجعی اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلب میں سے خمس وصول نہیں کیا۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب میں سلب کا بیان ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ مقتول کافر سے چھینا ہوا مال قاتل مسلمان کا حق ہو گا اور اس حق میں سے خُمُس بھی نہیں لیا جائے گا، لیکن ایسی صورت میں مجاہد سے دلیل کا مطالبہ کیا جائے گا کہ واقعی اس نے قتل کیا ہے۔