الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَابُ إِنَّ السَّلْبَ لِلْقَاتِلِ وَأَنَّهُ غَيْرَ مَخْمُوسٍ باب: اس چیز کا بیان کہ سلب قاتل کا ہو گا اور اس میں سے خُمُس نہیں لیا جائے گا
حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَوَازِنَ وَغَطَفَانَ فَبَيْنَمَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ فَانْتَزَعَ شَيْئًا مِنْ حَقَبِ الْبَعِيرِ فَقَيَّدَ بِهِ الْبَعِيرَ ثُمَّ جَاءَ يَمْشِي حَتَّى قَعَدَ مَعَنَا يَتَغَدَّى قَالَ فَنَظَرَ فِي الْقَوْمِ فَإِذَا ظَهْرُهُمْ فِيهِ قِلَّةٌ وَأَكْثَرُهُمْ مُشَاةٌ فَلَمَّا نَظَرَ إِلَى الْقَوْمِ خَرَجَ يَعْدُو قَالَ فَأَتَى بَعِيرَهُ فَقَعَدَ عَلَيْهِ قَالَ فَخَرَجَ يَرْكُضُهُ وَهُوَ طَلِيعَةٌ لِلْكُفَّارِ فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنَّا مِنْ أَسْلَمَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ وَرْقَاءَ قَالَ إِيَاسٌ قَالَ أَبِي فَاتَّبَعْتُهُ أَعْدُو عَلَى رِجْلَيَّ قَالَ وَرَأْسُ النَّاقَةِ عِنْدَ وَرِكِ الْجَمَلِ قَالَ وَلَحِقْتُهُ فَكُنْتُ عِنْدَ وَرِكِ النَّاقَةِ وَتَقَدَّمْتُ حَتَّى كُنْتُ عِنْدَ وَرِكِ الْجَمَلِ ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِخِطَامِ الْجَمَلِ فَقُلْتُ لَهُ إِخْ فَلَمَّا وَضَعَ الْجَمَلُ رُكْبَتَهُ إِلَى الْأَرْضِ اخْتَرَطْتُ سَيْفِي فَضَرَبْتُ رَأْسَهُ فَنَدَرَ ثُمَّ جِئْتُ بِرَاحِلَتِهِ أَقُودُهَا فَاسْتَقْبَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَ النَّاسِ قَالَ مَنْ قَتَلَ هَذَا الرَّجُلَ قَالُوا ابْنُ الْأَكْوَعِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَهُ سَلَبُهُ أَجْمَعُ۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہوازن اور غطفان کے ساتھ جہاد کیا، ہم ایک مقام پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی سرخ اونٹ پر آیا اور اونٹ کے تنگ میں سے کوئی چیز نکالی اور اس کے ساتھ اپنے اونٹ کو باندھا، پھر آیا اور ہمارے ساتھ دوپہر کا کھانا کھانے لگا، اس نے ہمارے لوگوں کا جائزہ لیا اور دیکھا کہ ہمارے سوار تھوڑے ہیں اور زیادہ تر لوگ پیدل ہیں، یہ جائزہ لے کر وہ دوڑتا ہوا نکلا، اپنے اونٹ کے پاس گیا اور اس پر بیٹھ کر اس کو دوڑانے لگا، یہ دراصل کافروں کا جاسوس تھا، بنواسلم قبیلے کا ایک آدمی اپنی سیاہی نما اونٹنی پر سوار ہوا اور اس کا پیچھا کیا، سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اپنی ٹانگوں پر دوڑا، اس آدمی کی اونٹنی کا سر جاسوس کے اونٹ کے پچھلی ٹانگ تک پہنچ چکا تھا، پیچھے سے میں بھی ملا جا رہا تھا اور اس کی اونٹنی کی پچھلی ٹانگ کے برابر تک پہنچ چکا تھا، میں اور آگے بڑھا اور جاسوس کے اونٹ کے پچھلے حصے کے برابر ہو گیا، پھر میں اور آگے بڑھا اور اونٹ کی لگام پکڑ لی اور اس کو بیٹھنے کی آواز دی، جب اونٹ نے اپنا گھٹنا زمین پر رکھا تو میں نے اپنی تلوار سونتی اور اس کے سر پر ماری اوروہ گر پڑا، پھر میں اونٹنی لے کر واپس آ گیا، آگے سے کچھ لوگوں سمیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کس نے اس آدمی کو قتل کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: ابن اکوع نے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا سارا سلب اس کے لیے ہے۔