الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَابُ تَقْسِيمِ أَرْبَعَةِ أَحْمَاسِ الْغَيْمَةِ وَمَا يُعْطَى الفارس والرجل، وَمَن يُرْضَحُ لَهُ مِنْهَا كَالْمَرْأَةُ وَالْمَمْلُوكِ باب: غنیمت کے پانچ حصوں میں چار حصوں کی تقسیم، گھوڑ سوار اور پیادہ کا حق اور خاتون اور غلام وغیرہ کو معمولی مقدار میںعطیہ دینا
حدیث نمبر: 5045
عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ شَهِدْتُ خَيْبَرَ مَعَ سَادَتِي فَكَلَّمُوا فِيَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِي فَقَلَّدْتُ سَيْفًا فَإِذَا أَنَا أَجُرُّهُ فَأُخْبِرَ أَنِّي مَمْلُوكٌ فَأَمَرَ لِي بِشَيْءٍ مِنْ خُرْثِيِّ الْمَتَاعِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مولائے آبی اللحم سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنے آقاؤں کے ساتھ غزوۂ خیبر میں حاضر ہوا، جب انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میرے بارے میں بات کی توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے بارے میں حکم دے دیا، میں نے اپنے ساتھ اس طرح تلوار لٹکائی کہ وہ گھسٹ رہی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا گیا کہ میں غلام ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ مالِ غنیمت میں سے تھوڑی سی مقدار میں گھریلو ساز و سامان مجھے دے دیا جائے۔
وضاحت:
فوائد: … مالِ غنیمت کا خُمُس تو امام لے لے گا، باقی چار حصے مجاہدین میں اس طرح تقسیم کے جائیں گے کہ گھوڑ سوار مجاہد کو کل تین حصے دیئے جائیں گے اور پیدل کو ایک حصہ، یعنی گھوڑے کی وجہ سے دو حصے زیادہ دیئے جائیں گے، لیکن ان حصوں کی تقسیم سے پہلے شرکت کرنے والے غلاموں اور خواتین کو بطور ِ عطیہ و حوصلہ افزائی مالِ غنیمت کی کچھ مقدار دی جائے گی۔