الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَابُ تَقْسِيمِ أَرْبَعَةِ أَحْمَاسِ الْغَيْمَةِ وَمَا يُعْطَى الفارس والرجل، وَمَن يُرْضَحُ لَهُ مِنْهَا كَالْمَرْأَةُ وَالْمَمْلُوكِ باب: غنیمت کے پانچ حصوں میں چار حصوں کی تقسیم، گھوڑ سوار اور پیادہ کا حق اور خاتون اور غلام وغیرہ کو معمولی مقدار میںعطیہ دینا
حدیث نمبر: 5042
عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ قَالَ وَفِينَا مَمْلُوكَانِ فَلَا يُقْسَمُ لَهُمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں تھے، ہم میں غلام بھی تھے، مالِ غنیمت میں سے ان کو کچھ نہیں دیا گیا۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح بات یہ ہے کہ غلاموں کا مالِ غنیمت میں معین حصہ نہیں ہے، امیرِ لشکراپنے اجتہاد کی روشنی میں ان کی حوصلہ افزائی کرے گا۔