الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الصَّفِيِّ الَّذِي كَانَ لِرَسُوْلِ الله صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ باب: اس منتخب حصے کا بیان، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے تھا
عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا بِهَذَا الْمِرْبَدِ بِالْبَصْرَةِ قَالَ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ مَعَهُ قِطْعَةُ أَدِيمٍ أَوْ قِطْعَةُ جِرَابٍ فَقَالَ هَذَا كِتَابٌ كَتَبَهُ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو الْعَلَاءِ فَأَخَذْتُهُ فَقَرَأْتُهُ عَلَى الْقَوْمِ فَإِذَا فِيهِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي زُهَيْرِ بْنِ أُقَيْشٍ إِنَّكُمْ إِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلَاةَ وَأَدَّيْتُمُ الزَّكَاةَ وَأَعْطَيْتُمْ مِنَ الْمَغَانِمِ الْخُمُسَ وَسَهْمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفِيَّ فَأَنْتُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللَّهِ وَأَمَانِ رَسُولِهِ قَالَ قُلْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ يُذْهِبْنَ وَحَرَ الصَّدْرِ۔ یزید بن عبد اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم بصرہ کے اس باڑے میں تھے، ایک بدّو آیا، اس کے پاس چمڑے یا مشکیزے کا ایک ٹکڑا تھا، اس نے کہا: یہ خط ہے، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لیے لکھا تھا، ابو العلاء کہتے ہیں: میں نے وہ خط پکڑا اور لوگوں کو پڑھ کر سنایا، اس کی عبارت یہ تھی: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ، یہ خط محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے بنو زہیر بن اقیش کو لکھا گیا ہے، اگر تم لوگ نماز ادا کرتے رہے، زکوۃ دیتے رہے، غنیمتوں میں سے خمس، اپنے نبی کا حصہ اور منتخب حصہ دیتے رہے تو تم اللہ کی امان اور اس کے رسول کی امان کے ساتھ باامن رہو گے۔ پھر ہم نے اس سے کہا: تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا سنا، اس نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: صبر والے مہینے کے روزے اور ہر ماہ میں سے تین روزے سینے کے کینے کو ختم کر دیتے ہیں۔