الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَابُ فَرْضِ حُمُسِ الْغَنِيمَةِ لِلَّهِ وَلِرَسُوْلِهِ مَا جَاءَ فِي تَقْسِيمِهِ باب: غنیمت کے خُمُس کا اللہ اور اس کے رسول کے لیے فرض ہونے اور اس کی تقسیم کا بیان
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ جَلَسَ مَعَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ وَالْحَارِثِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْكِنْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَتَذَاكَرُوا حَدِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ لِعُبَادَةَ يَا عُبَادَةُ كَلِمَاتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا فِي شَأْنِ الْأَخْمَاسِ فَقَالَ عُبَادَةُ قَالَ إِسْحَاقُ فِي حَدِيثِهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ فِي غَزْوَتِهِمْ إِلَى بَعِيرٍ مِنَ الْمُقَسَّمِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَتَنَاوَلَ وَبَرَةً بَيْنَ أُنْمُلَتَيْهِ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ مِنْ غَنَائِمِكُمْ وَإِنَّهُ لَيْسَ لِي فِيهَا إِلَّا نَصِيبِي مَعَكُمْ إِلَّا الْخُمُسُ وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ فَأَدُّوا الْخَيْطَ وَالْمِخْيَطَ وَأَكْبَرَ مِنْ ذَلِكَ وَأَصْغَرَ۔ سیدنا مقدام بن معدی کرب کندی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ سیدنا عبادہ بن صامت ، سیدنا ابو درداء اور سیدنا حارث بن معاویہ کندی کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث کا ذکر کیا، سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اے عبادہ: فلاں فلاں غزوے میں خمس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باتیں، سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک غزوے کے دوران ہمیں نماز پڑھائی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس مالِ غنیمت کا ایک اونٹ تھا، جس کو ابھی تک تقسیم نہیں کیا گیا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو کھڑے ہوگئے،اپنے دو پوروں میں اونٹ کے بال پکڑے اور فرمایا: یہ بال بھی تمہاری غنیمتوں میں سے ہیں اور اس مال میں تمہارے ساتھ میرا حصہ نہیں ہے، مگر خمس، اور وہ خمس بھی تم پر لوٹا دیا جائے گا، لہذا دھاگہ اور سوئی اور ان سے چھوٹی بڑی چیزیں، سب کچھ ادا کر دو۔