الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَابُ سَبَبِ نُزُولِ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: «يَسْتَلُونَكَ عَنِ الْإِنْفَالِ» باب: اللہ تعالیٰ کے فرمان: «يَسْتَلُونَكَ عَنِ الْإِنْفَالِ» کے شان نزول کا بیان
حدیث نمبر: 5026
عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يَكُونُ حَامِيَةَ الْقَوْمِ يَكُونُ سَهْمُهُ وَسَهْمُ غَيْرِهِ سَوَاءً قَالَ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ابْنَ أُمِّ سَعْدٍ وَهَلْ تُرْزَقُونَ وَتُنْصَرُونَ إِلَّا بِضُعَفَائِكُمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو آدمی بوقت شکست لوگوں کی حفاظت کا کام سرانجام دیتا ہے، کیا اس کا اور دوسرے مجاہدین کا حصہ برابر برابر ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: او سعد کی ماں کے بیٹے! تیری ماں تجھے گم پائے، صرف تمہارے کمزوروں کی وجہ سے تم کو رزق دیا جاتا ہے اور تمہاری مدد کی جاتی ہے۔