حدیث نمبر: 5023
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ دُلِّيَ جِرَابٌ مِنْ شَحْمٍ يَوْمَ خَيْبَرَ قَالَ فَالْتَزَمْتُهُ قُلْتُ لَا أُعْطِي أَحَدًا مِنْهُ شَيْئًا قَالَ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَبَسَّمُ قَالَ بَهَزٌ إِلَيَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند)خیبر والے دن چربی کا ایک مشکیزہ لٹکایا گیا، میں اس کو چمٹ گیا اور کہا: میں کسی کو اس میں سے کچھ بھی نہیں دوں گا، پھر جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف متوجہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا رہے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … ابو داود کی روایت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کو اجازت دیتے ہوئے فرمایا: ((ھُوَ لَکَ۔)) … یہ تیرے لیے ہے۔ اس باب سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی امت کے لیے مال غنیمت اور مال فے حلال کیا گیا ہے اور تقسیم سے پہلے یہ مال لینا جائز نہیں ہے، الا یہ کہ امام کسی مخصوص چیز کی اجازت دے دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 5023
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16914»