الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَابُ حَلْ الْغَنِيمَةِ مِنْ خَصُوصِيَاتِهِ صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ وَأُمَّتِهِ وَذِكْرِ أَحْكَامِ تَتَعَلَّقُ بِالْغَنِيمَةِ قَبْلَ قِسْمَتِهَا باب: اس امر کا بیان کہ غنیمت کا حلال ہونانبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی امت کے خصائص میں سے ہے اور تقسیم سے قبل غنیمت سے متعلقہ احکام کاذکر
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَ مُعَاوِيَةَ حِينَ سَأَلَهُ عَنِ الرَّجُلِ الَّذِي سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِقَالًا قَبْلَ أَنْ يَقْسِمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اتْرُكْهُ حَتَّى يُقْسَمَ وَقَالَ عَتَّابٌ حَتَّى نَقْسِمَ ثُمَّ إِنْ شِئْتَ أَعْطَيْنَاكَ عِقَالًا وَإِنْ شِئْتَ أَعْطَيْنَاكَ مِرَارًا۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا، جس نے تقسیمِ غنائم سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے معمولی سی چیز کا سوال کیا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے یہ جواب دیا تھا: اس کو چھوڑ دے، یہاں تک کہ ان کو تقسیم کر دیا جائے۔ عتاب راوی کے یہ الفاظ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو رکھ دے، یہاں تک کہ ہم خود تقسیم کریں گے، پھر اگر تو نے چاہا تو تجھے اونٹ کا گھٹنا باندھنے والی رسی دے دیں گے اور اگر تو نے چاہا تو ہم تجھے رسی دے دیں گے۔