الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَابُ حَلْ الْغَنِيمَةِ مِنْ خَصُوصِيَاتِهِ صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ وَأُمَّتِهِ وَذِكْرِ أَحْكَامِ تَتَعَلَّقُ بِالْغَنِيمَةِ قَبْلَ قِسْمَتِهَا باب: اس امر کا بیان کہ غنیمت کا حلال ہونانبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی امت کے خصائص میں سے ہے اور تقسیم سے قبل غنیمت سے متعلقہ احکام کاذکر
حدیث نمبر: 5015
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ مِنْ قَبْلِيترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے غنیمتیں حلال کی گئی ہیں،جبکہ یہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں تھیں۔
وضاحت:
فوائد: … مالِ غنیمت کا حلال ہونا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاصہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے کسی امت کے لیے یہ مال حلال نہیں تھا، جبکہ اس کا حلال نہ ہونا بڑی آزمائش تھی۔