الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَابُ تَحْرِيمِ الْفِرَارِ مِنَ الزَّحْفِ إِلَّا الْمُتَحَيِّر إِلَى فِئَةٍ وَإِنْ بَعُدَتْ باب: لڑائی کے وقت بھاگ جانے کی حرمت کا بیان، الا یہ کہ آدمی نے اپنی جماعت کو ملنا ہو، اگرچہ وہ جماعت دور ہو
عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ حَدَّثَنَا أَبُو رُهْمٍ السَّمَعِيُّ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ جَاءَ يَعْبُدُ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ وَيَصُومُ رَمَضَانَ وَيَجْتَنِبُ الْكَبَائِرَ فَإِنَّ لَهُ الْجَنَّةَ وَسَأَلُوهُ مَا الْكَبَائِرُ قَالَ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَقَتْلُ النَّفْسِ الْمُسْلِمَةِ وَفِرَارٌ يَوْمَ الزَّحْفِ۔ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں آیا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی ہو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو، نماز قائم کی ہو، زکوۃ ادا کی ہو، رمضان کے روزے رکھے ہوں اور کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا ہو تو اس کے لیے جنت ہو گی۔ جب لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کبائر کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، مسلمان نفس کو قتل کرنا اور لڑائی والے دن بھاگ جانا۔