حدیث نمبر: 5010
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَأَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ طَيِّبًا بِهَا نَفْسُهُ مُحْتَسِبًا وَسَمِعَ وَأَطَاعَ فَلَهُ الْجَنَّةُ أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَخَمْسٌ لَيْسَ لَهُنَّ كَفَّارَةٌ الشِّرْكُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَقَتْلُ النَّفْسِ بِغَيْرِ حَقٍّ أَوْ بَهْتُ مُؤْمِنٍ أَوْ الْفِرَارُ يَوْمَ الزَّحْفِ أَوْ يَمِينٌ صَابِرَةٌ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالًا بِغَيْرِ حَقٍّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملا کہ اس نے اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرایا ہو، دل کی خوشی کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے زکوۃ ادا کی ہو اور امام کی بات سنی ہو اور اس کی اطاعت کی ہو تو اس کے لیے جنت ہو گی، یا وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ پانچ گناہ ہیں، ان کا کوئی کفارہ نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، ناحق جان کو قتل کرنا، مؤمن پر تہمت لگانا، لڑائی والے دن بھاگ جانا اور جھوٹی قسم، جس کے ذریعے وہ ناحق مال حاصل کرتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … جمہور سلف صالحین کے مسلک کے مطابق زندگی میں توبہ اور ندامت کی وجہ سے ہر قسم کا گناہ معاف ہو جاتا، البتہ حقوق العباد کے سلسلے میں متعلقہ آدمی کو اس کا حق ادا کرنا یا معاف کر وا لینا ضروری ہے، اور موت کے بعد شرک کے علاوہ ہر گناہ قابل معافی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ جرم کی نوعیت کے مطابق عارضی طور پر کسی قسم کا عذاب دیا جائے، مثلا قبر میں عذاب، میدانِ حشر میں عذاب، جہنم میں عذاب۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 5010
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، المتوكل او ابو المتوكل مختلف في اسمه ، وھو مجھول، أخرجه البيھقي في الشعب : 4928 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8737 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8722»